حضرت سعد رضی اللّٰہ عنہ کو غزوہ بدر میں موقع نہیں ملا
انہوں نے کہا کہ یا اللہ مجھے اب ایک موقع چاہیے پھر آپ دیکھیں میں کیا کرتا ہوں یہ یک جذبہ تھا اس صحابی کا۔
چونکہ انہوں نے غزوۃ بدر میں حصہ نہیں لیا تھا یہ چاہتے تھے کہ میں دوسرے صحابہ کے برابر ہو جاؤ اب جب ٹائم آیا یہ من ہی من میں سوچ رہے تھے کہ یہ صحابہ بھی غزوہ احد میں ہیں یہ تو پھر مجھ سے آگے نکل جائیں گے جب جنگ شروع ہوئی تو مسلمان ہار رہے تھے تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللّٰہ عنہ دوڑتے ہوئے دشمن کی کچھار میں چلے گئے اور وہاں ایسی تلوار چلائی ایسی تلوار چلائی آئی کہ کافی دشمنوں کو زیر کیا ، اور کفار نے ان پر اتنے وار کئے کہ اتنی تلواریں چلائی کہ شہید کرنے کے بعد ان کو پہچاننا مشکل ہو رہا تھا پھر ان کی بہن نے انگلیوں کے پورے سے ان کو پہچانا تھا۔
اللہ نے قرآن میں میں ان کے بارے میں بیان کیا کہ وہ صحابی جو اللہ سے عہد کرتے ہیں ہیں پوری کرتے ہیں اور کچھ ابھی انتظار میں ہیں۔
یعنی اس کا مطلب کہ جن لوگوں نے غزوہ بدر اور غزوہ احد میں حصہ نہیں لیا تھا اس میں سے کچھ ہیں سوچتے تھے کہ یارب وہ تو ہم سے آگے ہیں ۔
ہم نے بہت بڑا کچھ کرنا ہے ۔
تو یہ جذبات ان صحابہ کرام رضوان اللّٰہ اجمعین کا۔
اللّٰہ ہم کو بھی اہسا کام کرنے کی توفیق دے کہ جس سے اللّٰہ راضی ہو جائے ۔