یہ کیسے اپنے تھے؟

 پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر میں عثمان کا گھر تھا۔ اسکے والد صاحب کی ٹائر پنکچر کی دکان تھی۔ اور اس میں جو سامان تھا جرمنی کا تھا یعنی بہت مظبوط اور پروفیشنل کام ہوتا تھا لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ، ایک دن حسب معمول اسکا والد دکان پہ کام کر رہا تھا اور اور کسی بڑی گاڑی کا پنکچر لگا رہا تھا جب ہوا بھرنے لگا تو تھوڑی دیر بعد ٹائر پھٹ گیا اور وہی اسکی موت ہوگئی یہ 2014  کی بات ہے ۔

تب اسکی عمر صرف 12 سال تھی اسکے والد اب اس دنیا سے جا چکے تھے ۔ اب کمانے والا کوئی نہیں تھا عموماً ایسے وقت میں اپنے رشتے دار ہی بندے کے کام آتے ہیں ۔ اسکے چچا جو ادھر ہی رہتے تھے نے دکان کی ذمہ داری لی کہ اب میں چلاؤں گا دکان اور اسکو لاہور بھیج دیا کام سیکھنے کیلئے ۔

کچھ مہینے گزرنے کے بعد وہ پوری طرح کام سیکھ کر واپس آتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اسکا چچا کراچی رہنے چلا گیا اور دکان کا مہنگا سامان بیچ کر ان لوگوں کو ایک پیسہ نہیں دیا اور چلا گیا تب چونکہ عثمان چھوٹا تھا اور یتیم بھی تو بے چارے کو سمجھ نہیں لگی کہ کیا ہو رہا ہے ان کے ساتھ۔



عثمان واپس لاہور گیا کہ کام کرونگا تو گھر والوں کا پیٹ پال سکوں گا۔ یہ لاہور 2 سال کام کرنے کے فیصل آباد گیا کام کرتا رہا کہ بس گھر والوں کا گذارا ہی ہو رہا تھا۔

میں کام کرنے کیلئے کراچی گیا ہوا تھا اور جس اپارٹمنٹ میں، میں رہائش پذیر تھا وہی میرے ساتھ والے کمرے میں یہ رہ رہا تھا کچھ ہی عرصے میں میری اسکے ساتھ دوستی ہوگئی  جو بہت گہری ہوتی گئی۔

خیر اسکے چچا کا بیٹا بھی آتا تھا ہمارے اپارٹمنٹ اس سے ملنے کیلئے جو نشے کا بہت بری طرح سے عادی تھا اور عثمان کو بھی اس نے نشے کی لت لگا لی تھی میں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح یہ نشہ چھوڑ دے لیکن آخر کار یہ کم کر گیا تھا نشہ کرنا ، ۔ وقت گزرتا گیا تو مجھے ایک دن عثمان نے اپنی کہانی بتائی اور اکثر مجھ سے مشورے کیا کرتا تھا تو میرا مشورہ اسے بہت پسند آتا تھا۔

اسکے والد صاحب نے ایک پلاٹ لے رکھا تھا اور اسکا پتہ صرف عثمان کی امی کو ہی تھا اس نے یہ بات عثمان کے چچا سے چھپا کے رکھی تھی کہ کہیں یہ بیچ نا ڈالے۔ وہ عثمان کے بڑا ہونے کا انتظار کر رہی تھی کہ ایک دن بڑا ہوگا تو اسکے حوالے کردونگی یہ پلاٹ۔


اب 2021 آچکا تھا عثمان 19 سال کا ایک حاضر دماغ انسان بن چکا تھا اس نے پلاٹ بیچ کر دکان کو منظم کیا اور گھر میں پہلی بار فریج اور بہت سا سامان لایا گیا ۔

اب وہ باہر سعودی عرب جا رہا ہے ۔

انکے یہ حالات دیکھ کر انکا چچا کہتا ہے میری بیٹی سے شادی کرلو لیکن یہ انکار کر رہا ہے تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ ،

یہ کیسے اپنے تھے کہ ان یتیموں کا مال کھا گیا۔

(اور اسکے اپنے بچے بگڑ چکے ہیں نشے کے عادی ہیں)

یہ کیسے اپنے تھے کہ اپنے ہی بھائی کے بیٹوں کا حق انکو دینے کے بجائے ان سے لیتا رہا ۔

یہ کیسے اپنے تھے کہ جب ان کے حالات پھر بدل گئے اور اب رشتے داری یاد آگئی کہ میری بیٹی سے شادی کرلو آیا کس منہ سے یہ آیا ہے ۔ 

اللّٰہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے 

زندگی بہت تھوڑی ہے لوگوں کو خوش کیا کریں یتیموں کی مدد تو اللّٰہ ہی کرتاہے لیکن یہ آپ کا امتحان ہوتا ہے کہ آپ انکے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہو ایسے ہزاروں واقعات ہمارے سامنے ہیں لیکن ہم ان سے سبق سیکھنے کے بجائے خود ہی غلط کام کرنے لگ جاتے جو بعد میں پچھتاوے کا باعث بنتی ہے۔



ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی