سلطان صلاح الدین ایوبی دریائے فرات کے کنارے خیمہ زن تھا۔ اس نے کئی چھوٹی چھوٹی مسلمان ریاستوں کو مطیع بنا لیا تھا جو در پردہ
صلیبیوں سے تعلقات بنائے رکھے تھے ایک طرف صلیبی تھے جنھوں نے بیت المقدس پہ قبضہ کر کے اسے یروشلم کا نام دیا تھا اور دوسری طرف کچھ مسلمان حکمران اپنی الگ ریاست چاہتے تھے ۔ چونکہ یہ لوگ سلطان صلاح الدین ایوبی کے مخالف تھے اور۔ اور ایوبی کی منزل بیت المقدس تھی اس کے کیلیے مسلمانوں کا اتفاق ضروری تھا۔
سورج غروب ہونے سے پہلے سلطان صلاح الدین ایوبی فرات کے کنارے ٹہل رہا تھا ان کے ساتھ گھڑسوار دستوں کا سالار اور چھاپہ مار دستوں کا سالار صارم مصری تھا ان سے کچھ دور سفید جبے میں ملبوس ایک آدمی کھڑا تھا جس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ سلطان ایوبی ادھر چل پڑا اور دیکھا کہ دو قبریں ہیں جن پر دو تختیاں لگی ہیں اور ان پر لال رنگ سے عربی زبان میں تحریر ہے۔ ۔
" عمرالملوک اللّٰہ تیری شہادت قبول کرے"
سلطان صلاح الدین ایوبی نے دونوں تحریریں پڑھیں اور اس آدمی کی طرف دیکھا جو دعا مانگ رہا تھا ۔ وہ آدمی وضع اور لباس سے عالم فاضل معلوم ہو رہا تھا سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسکی طرف دیکھا تو وہ ذرا جھک کر کہنے لگا کہ میں اس گاؤں کا امام ہوں جب بھی مجھے پتہ چلتا ہے کہ کوئی شہید ہوا ہے تو میں دعا کرنے چلا جاتا ہوں ۔ کیوں کہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ جس جگہ شہید کا خون گر جاتا ہے وہ جگہ مسجد جتنی مقدس بن جاتی ہے۔ میں لوگوں کو یہی بتایا کرتا ہوں کہ مجاہد وہ عظیم شخصیت ہے جس کے گھوڑوں کے سموں کی اڑائی ہوئی گرد کی قدر خدا نے بھی کی اور جہاد فی سبیل اللّٰہ کو افضل عبادت قرار دیا ہے
سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ؛مگر اللّٰہ کے نام پر جانیں قربان کرنے والے ایسے ہی گمنام لوگ ہوتے ہیں جن کی قبریں آپ دیکھ رہے ہیں لیکن تاریخ میں ان کا نام نہیں آئےگا بلکہ میرا نام آئے گا حالانکہ میری عظمت ان کی وجہ سے ہے۔
سلطان نے دونوں تختیوں پر ہاتھ پھرا اور اپنے سالاروں کی جانب دیکھ کر کہا کہ یہ دونوں لال رنگ سے لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہیں اور شاید لکھنے والا بھی ایک ہی آدمی تھا
سالار صارم مصری نے جواب دیا کہ نہیں سلطان محترم ٫ یہ لال رنگ نہیں بلکہ خون ہے عمرالملوک کی قبر کی تختی نصر الملوک نے لکھی تھی اور پھر اپنی بھی تختی اپنے خون سے خود ہی لکھی تھی اور شہد ہوگیا تھا۔
سولہ ،سترہ دن پہلے ایک بڑی کشتی پہ آٹھ چھاپہ ماروں نے چھاپہ مارا تھا جس میں یہ چار شہید ہوگئے تھے اور وہ کشتی دشمن کیلئے سامان لے کے جارہی تھی جس کی اطلاع آپ کو کر دی گئی تھی ۔
ایسے ہی بے شمار سلطان صلاح الدین ایوبی کے جاسوس شہید ہو گئے تھے لیکن وہ وقت بھی مسلمانوں کو دیکھنا تھا کہ ان جاسوسوں کی قربانیاں ، ایوبی کہ حکمت عملی شہیدوں کا خون رنگ لے آیا بیت المقدس فتح ہوگیا جس کیلئے ساری زندگی سوچتے رہے اور کفار سے لڑتے رہے لیکن اللّٰہ نے ان کو خوشخبری دی اور بیت المقدس فتح ہوا
دوسری طرف آجکا مسلمان گمراہی کے ایسے دلدل میں خود کو پھنسایا ہے کہ اب نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
اللّٰہ اس امت کیلئے اسانی فرمائے آمین ۔۔
تحریر از "داستان ایمان فروشوں کی" ۔

